ابنا: پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ تاہم اس سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا جبکہ علاقے کے رکن پارلیمنٹ رابرٹ ہالفون ایم بی نے مسجد پر حملے کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جنہوں نے یہ حملہ کیا ہے وہ برطانوی معاشرے کے چہرے پر دھبہ ہیں۔رابرٹ ہالفون نے مسجد کا دورہ کرکے خود نقصانات کا جائزہ لیا اور مسجد انتظامیہ کو اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ ہارلو اسلامک سینٹر کے وائس چیئرمین مولانا ضیاء الرحمن نے جنگ لندن کو بتایا کہ شرپسندوں نے مسجد کے چاروں دروازوں پر آتش گیر مادہ رکھا ہواتھا۔ اس میں سے صرف مسجد کے پچھلے حصے کے دروازے کو آگ لگی جبکہ باقی تین دروازوں پا آگ نہیں لگ سکی۔ اس لئے زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق ہارلو اسلامک سینٹر کی مسجد میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب11بجے سے چار بجے کے دوران بعض شرپسندوں نے آگ لگانے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لئے مسجد کے چاروں دروازوں کا استعمال کیا وہاں پر آتش گیر مواد رکھا گیا۔ ان میں سے مسجد کے پچھلے دروازے والا آتش گیر مواد آگ پکڑ گیا جب دوسرے دروازوں میں آگ نہیں لگی۔ مسجد کی انتظامیہ نے پولیس کو اس وقت طلب کیا جب نمازی فجر کی نماز پڑھنے آئے۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی فوجی لی رگبی کے قتل کے بعد برطانیہ میں مساجد اور مسلمانوں پر حملوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ ہارلو کی مسجد پر ہونے والا حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی نظر آتا ہے۔ اس مسجد میں گزشتہ برس گھر میں آگ لگنے سے پانچ بچوں سمیت چھ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس وقت اسیکس پولیس کی بھاری نفری موجود ہے اور کمیونٹی کو اس بات کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ وہ محفوظ ہے۔اسلامک سینٹر کے چیئرمین عجائب حسین نے ایک مقامی اخبار کو بتایا کہ انہیں اس بات پر شدید حیرت ہوئی ہے کہ مسجد پر حملہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد انتظامیہ اور مسلم کمیونٹی کے مقامی کمیونٹیز کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیں۔ اس طرح کا حملہ ان کے لئے کسی صدمہ سے کم نہیں ہے۔
.......
/169